بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا شرطِ فاسد نکاح میں مؤثر ہے؟

سوال

كيا شرطِ فاسد نكاح میں مؤثر هے؟

جواب

اگر کوئی شخص نکاح میں کوئی شرطِ فاسد لگاتا ہے تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، بلکہ وہ شرط کالعدم ہوگی، مثلاً کوئی شخص نکاح کے وقت  یہ شرط رکھتا ہے کہ بیوی کو مہر نہیں دوں گا، تو اس شرط کی وجہ سے نکاح فاسد نہیں ہو گا، بلکہ یہ شرط خود باطل ہو جائے گی اور بیوی کے لیے مہر مثل ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 53):

"لو عقد مع شرط فاسد لم يبطل النكاح بل الشرط ...  (قوله: مع شرط فاسد) كما إذا قال: تزوجتك على أن لايكون لك مهر فيصح النكاح ويفسد الشرط ويجب مهر المثل".

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200046
تاریخ18-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں