بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلی والدہ کی پہلے شوہر سے ہونے والی اولاد سے نکاح

سوال

کیا کوئی شخص اپنے باپ کی دوسری بیوی کے پہلے شوہر سے پیدا لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے؟ جب کہ وہ ماں باپ ابھی نکاح میں ہوں۔ یعنی اکبر کا بیٹا اسلم، اکبر کی دوسری بیوی سکینہ کی بیٹی سلیمہ سے نکاح کرسکتا ہے جب کہ اکبر اور سکینہ نکاح میں ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ اسلم اور سلیمہ کے والدین جدا جدا ہیں، اس لیے دونوں کے درمیان حرمت کی کوئی وجہ موجود نہیں، اس لیے اسلم کا نکاح سلیمہ سے درست ہے۔ اگرچہ سلیمہ کی والدہ سکینہ اسلم کے والد اکبر کے نکاح میں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200032
تاریخ18-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں