بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، چار بیٹیوں اور بھتیجوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

 میرے بہنوئی  جولائی میں فوت ہوگئے ہیں، ان کی بیوہ اور چار بیٹیاں زندہ ہیں، جب کہ ان کے والدین بہن بھائی سب ان کی زندگی میں ہی وفات پا چکے ہیں۔ اب ان کی جائیداد میں سے ان کے بھتیجوں کو حصہ ملے گا،اور اگر ملے گا تو وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے حقوقِ متقدمہ ادا کرنے کے بعد (یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر اس پر کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد اور اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی میں سے نافذ کرنے کے بعد باقی) کل ترکہ کو 24 حصوں میں تقسیم کرکے 3 حصے بیوہ کو، 4،4 حصے ہر ایک بیٹی کو  ملیں گے، جب کہ بقیہ پانچ حصے مرحوم کے بھتیجوں کے درمیان برابر برابر تقسیم ہوں گے۔

تاہم مکمل تقسیم معلوم کرنے کے لیے بھتیجوں کی مکمل تعداد لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کردیں، ان شاء اللہ جواب دے دیا جائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200028
تاریخ18-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں