بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیٹے اور پانچ بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

ہمارے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، ہم ایک بھائی اور پانچ بہنیں ہیں۔ ایک گھر ہے، جس کی قیمت ایک کروڑ ہے۔ میراث کی تقسیم کی رہنمائی کردیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومین کے ترکے کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحومین کی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحومین کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد، اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے  ایک تہائی  ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل جائیداد کو 7 حصے میں تقسیم کرکے 2 حصے مرحومین کے بیٹے کو اور ایک حصہ ہر  ایک بیٹی کو ملے گا۔

لہذا  ایک کروڑ روپے میں سے 2857142.85 روپے بیٹے کو اور 1428571.42 روپے ہر  ایک بیٹی کو ملیں گے۔فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201490
تاریخ17-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں