بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرغیاں پالنا اور بیچنا

سوال

مرغیوں کو بیچنے اور پالنے کا کاروبار شرعاّ کیسا ہے؟ میرے چچا ایک عالمِ دین کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ مرغیوں کا پالنا غربت کا باعث ہے!

جواب

مرغیاں پالنا اور ان کا کاروبار کرنا جائز ہے، بشرطیکہ ان کی خوراک کا مناسب انتظام کیاجاتاہو، شرعی طور پر اس میں کوئی حرج نہیں۔ نیز ان کی خوراک میں از خود کوئی نجس یا حرام چیز شامل نہ کرے۔

تلاش کے باوجود ہمیں ایسی کوئی روایت نہیں ملی جس میں مرغیاں پالنے کی بنا پر غربت کا ذکر ہو؛ لہٰذا بلاتحقیق یہ روایت بیان کرنا شرعًا درست نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 401):

"(قوله: وأما للاستئناس فمباح) قال في المجتبى رامزًا: لا بأس بحبس الطيور والدجاج في بيته، ولكن يعلفها وهو خير من إرسالها في السكك اهـ وفي القنية رامزًا: حبس بلبلًا في القفص وعلفها لايجوز اهـ".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201486
تاریخ17-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں