بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عفراء فاطمہ نام رکھنا

سوال

میرے ہا ں بیٹی پیدا ہوئی ہے میں اس کا نام عفراء فاطمہ رکھنا چاہتا ہوں، بتائیے گا یہ نام میر بیٹی کے لیے کیسا رہے گا؟

اس کی تاریخ پیدائش 19/09/2020ہے۔

جواب

عفراء بنت عبید  رضی اللہ عنہا جلیل القدر صحابیہ ہیں، اور  فاطمہ رضی اللہ عنہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لختِ جگر اور جنتی خواتین کی سردار ہیں، ان کی نسبت سے  اپنی بیٹی کا نام ’’عفراء فاطمہ‘‘ رکھ سکتے ہیں، ان شاء اللہ یہ نام مبارک ثابت ہوگا۔

باقی نام رکھنے میں تاریخِ پیدائش اور حروف کے مؤثر ہونے کا نظریہ درست نہیں ہے، نام رکھنے کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ اچھے معنیٰ والا نام ہو، لڑکے کا نام رکھنا ہو تو انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام پر ، اور لڑکی کا نام رکھنا ہو تو صحابیات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کے نام پر نام رکھا جائے۔

الطبقات الكبري لابن سعد میں ہے:

"عَفْرَاءُ بِنْتُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ وَأُمُّهَا الرُّعَاةُ بِنْتُ عَدِيِّ بْنِ سَوَّادِ بْنِ مَالِكِ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ تَزَوَّجَهَا الْحَارِثُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ سَوَّادِ بْنِ مَالِكِ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ فَوَلَدَتْ لَهُ مُعَاذًا وَمُعَوِّذًا وَعَوْفًا شَهِدُوا بَدْرًا، أَسْلَمَتْ عَفْرَاءُ وَبَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم".

( الطبقة السادسة، ٨ / ٤٤٣، ط: دار صادر - بيروت )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201471
تاریخ17-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں