بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خاوند گھر نہ آئے تو نکاح کا حکم

سوال

میرے شوہر باہر ملک میں کام کرتے ہیں، سنا ہے کہ اگر خاوند کئی ماہ گھر نہ آئے تو  نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اور واپسی پر پھر سے نکاح کرنا ہوتا ہے، رہنمائی کردیں!

جواب

مذکورہ بات درست نہیں،  اگر خاوند زندہ ہو اور کئی ماہ، بلکہ کئی سال گھر نہ آئے تو  نکاح نہیں  ٹوٹتا، نہ ہی نئے نکاح کی ضرورت ہے۔

نکاح یا تو شوہر کے الفاظ کے ذریعے بیوی کو نکاح سے خارج کرنے سے ختم ہوتا ہے، یا بعض صورتوں میں قاضی کے شوہر کے قائم مقام بن کر نکاح ختم کرنے سے  (مثلاً: شوہر طویل عرصے سے لاپتا ہو اور بیوی کے نان نفقے کا انتظام کہیں سے نہ ہوتا ہو یا اس کے لیے پاک دامنی کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہوجائے) یا پھر شوہر کی موت سے۔

الفتاوى الهندية (1/ 348):

"(أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص، كذا في البحر الرائق. (وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه، كذا في الكافي".

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201458
تاریخ17-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں