بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی طرف سے عقیقہ کرنے کا حکم

سوال

نکاح کے بعد اور رخصتی سے قبل اور جس کے نکاح میں وہ لڑکی آئی ہے وہ اُس کا عقیقہ کرسکتا ہے؟

جواب

جی ہاں! وہ شخص اپنی بیوی کی طرف سے عقیقہ کرسکتا ہے، یہ شوہر کا بیوی پر احسان ہوگا۔

فیض الباری میں ہے:

"ثم إن الترمذي أجاز بها إلى يوم إحدى وعشرين. قلتُ: بل يجوز إلى أن يموت، لما رأيت في بعض الروايات أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلّم عقّ عن نفسه بنفسه".

                (کتاب العقیقة، باب إماطة الأذى عن الصبي (5/ 648)،ط. دارالكتب العلمية: 2005م)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو ضحى عن أولاده الكبار وزوجته لايجوز إلا بإذنهم، وعن الثاني أنه يجوز استحسانًا بلا إذنهم، بزازية."

(كتاب الأضحية (6/ 315)،ط. سعيد كراتشي)                                                                       

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201442
تاریخ16-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں