بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیٹی اور چار بیٹوں کے درمیان میراث کی تقسیم کا طریقہ

سوال

ایک بیٹی اور چار بیٹوں میں میراث کی تقسیم کا  شرعی طریقہ کار کیا ہے؟

جواب

اگر مرحوم کے ورثاء میں صرف ایک بیٹی اور چار بیٹے ہوں تو ان کے درمیان میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ مرحوم کے کل  ترکہ میں سے حقوق متقدمہ (یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ، قرضہ کی ادائیگی اور تہائی مال میں سے وصیت کا نفاذ) نکالنے کے بعد باقی کل ترکہ کو ایک بیٹی اور چار بیٹوں کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ہر بیٹے کو بیٹی کے مقابلہ میں دوگنا حصہ مل جائے، یعنی کل ترکہ کے نو حصہ کرکے اس میں سے ایک حصہ بیٹی کو اور دو، دو حصے ہر بیٹے کو دیے جائیں گے۔

فیصد کے حساب سے بیٹی کو 11.11 فیصد اور ہر ایک بیٹے کو 22.22 فیصد ملے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201434
تاریخ16-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں