بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امانت چوری ہونے کے بعد ضمان کا حکم

سوال

سن  2014ء میں 7 تولہ کے امانت زیور چوری ہوگئے، اب امانت واپس کس شکل میں ممکن ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ  اگر  امانت رکھے ہوئے زیورات مودَع (جس کے پاس زیورات امانت رکھے گئے تھے) کی کوتاہی کے نتیجہ میں  چوری ہوگئے تھےتو اتنے وزن کے زیورات یا ان کی موجودہ قیمت بطورِ ضمان دینا لازم ہوگا، تاہم اگر مودَع نے پوری ذمہ داری نبہانے کی کوشش کی تھی اور کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی تھی، اس کے باوجود زیورات چوری ہوگئے تھےتو اس صورت میں مودَع ضامن نہیں ہوگا۔ 

شرح المجلہ لسلیم رستم باز میں ہے:

"الوديعة أمانة في يد المودَع، فإذا هلكت بلا تعد منه و بدون صنعه و تقصيره في الحفظ لا يضمن، ولكن إذا كان الإيداع بأجرة فهلكت أو ضاعت بسبب يمكن التحرز عنه لزم المستودع ضمانها".

( أحكام الوديعة، رقم المادة:777، ج:1، ص:342، ط:مكتبه رشيديه)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201399
تاریخ16-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں