بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ربیع الثانی 1448ھ 10 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’تعزیہ‘‘ کی تعریف اور حکم

سوال

تعزیہ کیا ہے اور  اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

 شیعہ لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہداء  کربلا  کا غم منانے اور ماتم کرنے کے دوران  ان شہداء کی قبور، مزارات ، تابوت وغیرہ کی تصاویر اور شبیہ بناتے ہیں اور علم و دُلدُل نکالتے ہیں اس سب کو ’’تعزیہ‘‘ کہا جاتا ہے، ’’تعزیہ‘‘ کا شرعی حکم یہ ہے کہ ’’تعزیہ‘‘ بہت سارے غیر شرعی اور ناجائز امور (مثلًا  ماتم، مار پیٹ،خود کو اذیت دینا،بال نوچنا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا بازی کرنا،شہداء کی قبور اور دیگر متعلقات کی شبیہ بناکر اس کے سامنے سجدے کرنا اور  اس کی غیر شرعی تعظیم  کرنا، وغیرہ) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201397
تاریخ16-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں