بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک گھر میں ایک ہی وقت میں اکٹھے تین شادیاں کرنے کا حکم

سوال

ایک گھر میں تین شادیاں ایک ہی وقت پر کرنا کیسا ہے؟ کسی نے کہا کہ حدیث کا مسئلہ ہے کہ تین شادیاں اکٹھی کرنے سے کسی ایک کو طلاق ہو جاتی ہے۔ حدیث کی رو سے وضاحت فرما دیں!

جواب

ایک گھر میں ایک ہی وقت میں دو، تین یا اس سے زیادہ شادیاں کرنے میں شرعًا کوئی حرج نہیں ہے، تین شادیاں اکٹھی کرنے سے کسی ایک کو طلاق ہوجانے والی بات کو حدیث کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے، احادیث کے ذخیرہ میں ایسی کوئی بات موجود نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201376
تاریخ15-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں