بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چالو کھاتے پر زکات کا حکم

سوال

چالو کھاتہ ہو، جیسے لاکھ پچاس ہزار روزانہ آتا جاتا رہتا ہے، کیا اس مال پر زکوٰۃ واجب ہے؟

جواب

واضح ہو کہ چاند کے حساب سے نصاب پر سال گزر جائے تو سال پورا ہونے کے دن صاحبِ نصاب آدمی کے پاس جتنا مال ہوگا اس کے حساب سے زکات واجب ہوگی، اگرچہ بعض مال پر سال پورا نہ ہوا ہو،  اور جو مال سال کے درمیان خرچ ہوتا رہا، اس پر زکات واجب نہیں ہوگی؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں جس روز  سال پورا ہوا اس وقت  واجب الادا قرض نکال کر جتنا  چالو کھاتا موجود  ہے اس پر بھی زکات واجب ہوگی۔

فتاوی شامی(288/2):

"(والمستفاد) ولو بهبة أو إرث و(وسط الحول یضمّ إلی نصاب من  جنسه) فیزکیه بحول الأصل." 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201355
تاریخ15-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں