بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کی عدت

سوال

طلاق کی تینوں قسم کی الگ الگ عدت ہوگی ؟ تین طلاق کے بعد بھی عدت  شوہر کے گھر ہوگی ؟قران پاک میں طلاق کا ذکر آتا ہے وہ طلاق کی کون سی قسم ہے ؟

جواب

طلاق چاہے پہلی ہو یا دوسری تیسری،اس  کی عدت تین حیض ہے،اور جس عورت کو   (بڑھاپے یا کم عمری کی وجہ سے) حیض نہ آتا ہو؛ اس کے لیے  عدت تین ماہ ہے۔

طلاق کی عدت عورت شوہر کے گھر میں ہی  گزارے گی۔

قرآن میں جس طلاق کے بارے میں آپ معلوم کرنا چاہ رہے ہیں وہ آیت نمبر لکھ کر بھیج دیں تو اس کے متعلق  جواب دے دیا جائےگا۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201304
تاریخ15-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں