بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے کنویں کا پانی گھر لے جانے کا حکم

سوال

کیا مسجد کے کنویں کا پانی  اپنے گھر یعنی مسجد کے باہر استعمال کرنا درست ہے؟

جواب

مسجد کے کنویں کے پانی میں  واقف کی شرط کا اعتبار ہے، اگر  پانی کا انتظام کرنے والے واقف یا مسجد کمیٹی   کی جانب سے پانی صرف مسجد کے لیے ہو اور اس کو باہر لے جانے کی اجازت نہ ہو تو  اس پانی کو ذاتی استعمال کے لیے مسجد سے باہر (گھر وغیرہ) لے جانا   درست نہیں۔ اور اگر واقف اور مسجد کمیٹی کی جانب سے اس کی  اجازت ہو کہ ذاتی استعمال بھی کیا جاسکتا ہے تو  مسجد کا پانی  دوسری جگہ لے جانا بھی درست ہے۔

مسجد کمیٹی سے معلوم کرلیا جائے، اور بہتر یہ ہے کہ بوقتِ ضرورت پانی استعمال کیا جائے تو بھی کچھ پیسے مسجد کے چندے میں دے دیے جائیں۔

الفتاوى الهندية (5/ 341):

"شرب الماء من السقاية جائز للغني والفقير، كذا في الخلاصة. ويكره رفع الجرة من السقاية وحملها إلى منزله؛ لأنه وضع للشرب لا للحمل، كذا في محيط السرخسي. وحمل ماء السقاية إلى أهله إن كان مأذونا للحمل يجوز وإلا فلا، كذا في الوجيز للكردري في المتفرقات."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201274
تاریخ14-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں