’’ملیکہ‘‘ (Maleekah) نام کا معنیٰ اور رکھنے کا حکم
سوال
میں اپنی بیٹی کا نام ملیکہ (Maleekah) رکھنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم راہ نمائی فرمادیجیے!
جواب
’’ملیکہ‘‘ (مَلِیْکَهْ) لفظ ’’ملیک‘‘ کی مؤنث ہے بمعنیٰ ملکہ (بادشاہ کی بیوی) اور مالکن، رسول اللہ ﷺ کی احادیث کے راویوں میں سے ایک خاتون راویہ کا نام بھی ’’ملیکہ‘‘ ملتا ہے۔ اس لیے بچی کا نام ’’ملیکہ‘‘ رکھنا درست ہے۔
تاج العروس (27/ 349):
"والمَلِك مَقْصُورٌ من ممالِك أَو مَلِيكٍ، قالَ عَبدُ اللِّه بنُ الزِّبَعْرَى:
(يَا رَسُولَ المَلِيك إِنَّ لِسانِي ... راتِقٌ مَا فَتَقْتُ إِذْ أَنا بُورُ)
والمَلْكِ مُلُوكٌ، وَجمع المَلِكِ أمْلاكٌ، وَجمع المَلِيكِ مُلَكاء".
تاج العروس (27/ 353):
"وكسَفِينَةٍ مَلِيكَةُ بنت أبي الحَسَن النَّيسابُورِيَّةُ: مُحدِّثَةٌ رَوَتْ عَن الفَضْل ابنِ المُحِبِّ، وعنها عبدُ الرحْمنِ بنُ السمعانيِّ".
فقط و الله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

