بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’ملیکہ‘‘ (Maleekah) نام کا معنیٰ اور رکھنے کا حکم

سوال

 میں اپنی بیٹی کا نام ملیکہ (Maleekah) رکھنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم راہ نمائی فرمادیجیے!

جواب

’’ملیکہ‘‘  (مَلِیْکَهْ) لفظ ’’ملیک‘‘  کی مؤنث ہے بمعنیٰ ملکہ (بادشاہ کی بیوی) اور مالکن، رسول اللہ ﷺ کی احادیث کے راویوں میں سے ایک خاتون راویہ کا نام بھی ’’ملیکہ‘‘ ملتا ہے۔ اس لیے بچی کا نام ’’ملیکہ‘‘ رکھنا درست ہے۔

تاج العروس (27/ 349):

"والمَلِك مَقْصُورٌ من ممالِك أَو مَلِيكٍ، قالَ عَبدُ اللِّه بنُ الزِّبَعْرَى:

(يَا رَسُولَ المَلِيك إِنَّ لِسانِي ... راتِقٌ مَا فَتَقْتُ إِذْ أَنا بُورُ)

والمَلْكِ مُلُوكٌ، وَجمع المَلِكِ أمْلاكٌ، وَجمع المَلِيكِ مُلَكاء".

تاج العروس (27/ 353):

"وكسَفِينَةٍ مَلِيكَةُ بنت أبي الحَسَن النَّيسابُورِيَّةُ: مُحدِّثَةٌ رَوَتْ عَن الفَضْل ابنِ المُحِبِّ، وعنها عبدُ الرحْمنِ بنُ السمعانيِّ".

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201271
تاریخ14-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں