بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرک کے بارے میں معلوم نہ ہو اور گیم میں شرکیہ عمل کر لیا تو کیا حکم ہے؟

سوال

اگر بچوں یا بڑوں کو شرک کے بارے میں معلوم نہ ہو اور پب جی کو بس ایک گیم سمجھ کر کھیل لیا تو ان کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جن بچوں یا بڑوں نے اختیاری طور پر گیم میں موجود پلیئر کو بت کے سامنے جھکایا ہو، اس کی وجہ سے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوجائیں گے۔ ان پر تجدید ایمان لازم ہے۔ شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدید نکاح بھی لازم ہے۔  شرک کے بارے میں معلوم نہ ہونے کے باوجود شرکیہ عمل سے کفر ہی لازم آتا ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1 / 164):

"ألا ترى أنه يقول: (فأبواه يهودانه) ، في حكم الدنيا، فهو مع وجود الإيمان الفطري فيه محكوم له بحكم أبويه الكافرين".

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201264
تاریخ14-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں