بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیک پر موم بتی جلاکر کھانے کا حکم

سوال

اگر کوئی کیک پر موم بتی جلائے، اور وہ کیک سالگرہ کا نہ ہو، بلکہ کھانے کے واسطے لیا گیا ہو، اور اس پر موم بتی جلائی جائے، اس کا حکم کیا ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر کیک پر موم بتی جلاکر کھانے میں کوئی رسم، رواج یا کسی سے مشابہت مقصود نہ ہو نیز کوئی خاص نظریہ بھی ذہن میں نہ ہو تو ایسا  کرنا  پھر بھی ایک لغو اور عبث عمل  ہے، لہذا ایسے عمل سے اجتناب کیا جائے۔

جامع المسائل لابن تيمية  میں ہے:

"كل عمل لايبقى نفعُه فهو عبث ولعبٌ وباطلٌ، صار كلٌّ من اَلناس يُسمِّي ما لايبقى نفعُه بالنسبة إلى ما يبقى عبثًا وباطِلاً ولعبًا وباطلاً".

(الفصل الأول، ج:1، ص:49، ط:دارعالم الفوائد للنشر والتوزيع)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144202201161
تاریخ13-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں