بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فدیہ کا زیادہ مستحق کون ہے؟

سوال

فدیہ کا زیادہ حق دار کون ہیں؟

جواب

نماز یا  روزے کا ایک فدیہ (ایک صدقہ فطر کی مقدار یعنی تقریباً پونے دو کلو گندم یا اس کا آٹا یا اس کی قیمت)  کے برابر ہوتا ہے، اور فدیہ کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا مصرف ہے یعنی مسلمان فقیر جو سید اور ہاشمی نہ ہو اور صاحبِ نصاب بھی نہ ہو، پس اگر فدیہ دینے والے کے قریبی رشتہ داروں میں کوئی مستحقِ زکاۃ ہو تو اسے فدیہ دینا دُہرے اجر کا باعث ہوگا، ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔ اسی طرح دینی مدارس کے مستحق طلبہ پر صرف کرنا دوہرے ثواب کا باعث ہے، ایک صدقہ اور ایک اشاعتِ دین میں حصہ لینا۔ اور اگر ان دو مصارف میں سے کوئی دست یاب نہ ہو تو کسی بھی مستحقِ زکاۃ کو دینے سے  فدیہ ادا ہوجائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201151
تاریخ13-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں