بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کورٹ میرج کے بعد دوبارہ نکاح کرنا

سوال

میں اور میری  چچا زاد بیٹی ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے تھے جب کہ میرے گھر والے نہیں مان رہے تھے اور لڑکی کے گھر والے مان رہے تھے تو ہم دونوں نے کورٹ میرج کرلی اور میں نے گھر والوں سے بول دیا کہ مجھےکسی اور سے شادی نہیں کرنی،  اب اس بات کو دو سال ہو گئے ہیں اور اب گھر والے بھی مان گئے ہیں تو اب ہماری شادی کرنا چاہتے ہیں، اب ہم اپنے گھر والوں کو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ ہم نے کورٹ میرج کی ہوئی ہے تو کیا اب ہم اس نکاح کے ہوتے ہوئے اب دوبارہ  شادی کر سکتے ہیں یعنی کہ اس پہلے نکاح کے اوپر نکاح ہو جائے گا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں والدین کی اجازت کے بغیر اس طرح چھپ کر نکاح کرنا نامناسب اور ناپسندیدہ عمل عمل تھا، البتہ اگر کورٹ میں دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب اور قبول ہوا ہے تو نکاح منعقد ہوگیا ہے  اور سائل اور مذکورہ لڑکی شرعًا آپس میں میاں بیوی ہیں۔اب  اگر سائل اپنے والدین کو نہیں بتاتا اور دوبارہ نکاح کیا جاتا ہے تو پہلا نکاح اپنی جگہ باقی رہے گا اور یہ نیا ایجاب و قبول اس پہلے نکاح کی تجدید بن جائے گا۔

پہلا نکاح ہوتے ہوئے دوسرا نکاح عورت کے حق میں تب منع ہے، جب وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور سے نکاح کرے، اور ایسا نکاح منعقد نہیں ہوتا، جب کہ سائل اور اس کی چچا زاد دونوں میاں بیوی ہیں، اور میاں بیوی کا نکاح ہوتے ہوئے تجدیدِ نکاح کرنے میں حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201083
تاریخ12-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں