بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میسم نام رکھنا

سوال

مجھے اپنے بھانجے کا نام "مِیسَم" رکھنا ہے، اس کے معنی بتادیں، اور کیا یہ نام رکھ سکھتے ہیں، اس کے بڑے بھائی کا نام "حسن" ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بچوں کے نام رکھنے کے حوالے سے اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ ایسا نام رکھا جائے جس کا معنی عمدہ ہو، یا انبیاءِ کرام علیہم الصلاة و السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام پر ہو۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان اور انبیاءِ عظام علیہم الصلوات والتسلیمات کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کرکے رکھنا باعثِ سعادت اور برکت ہے۔

سوال میں جس بچے کا نام رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا ہے، چوں کہ ان کے بڑے بھائی کا نام "حسن" ہے تو اس بچہ کا نام "حسین" رکھنا زیادہ بہتر ہے۔ "حسن" اور "حسین"  سرکارِ دوعالم ﷺ کے محبوب نواسوں کے اسماءِ گرامی ہیں۔ یا "محسن" نام رکھ لیا جائے، یہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے تیسرے صاحب زادے کا نام ہے۔

تاہم "مِیسَم" ( "میم" کے  زیر اور "س" پر زبر کے ساتھ ) کا معنی  " حسن و جمال " ہے؛ لہٰذا یہ نام رکھنا بھی درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202201043
تاریخ11-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں