بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ادھار پر سونے کی خرید و فروخت کا حکم

سوال

کیا ادھار پر سونے کی خرید و فروخت جائز ہے؟

جواب

ادھار پر سونے  کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔

الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج:5، ص:258، ط: دار الفكر-بيروت):

‘‘باب الصرف ... (هو) لغةً: الزیادة، و شرعاً (بیع الثمن بالثمن) أي ماخلق للتنمیة و منه المصوغ (جنساً بجنس أو بغیر جنس) کذهب بفضة (و یشترط) عدم التأجیل و الخیار و (التماثل) أي التساوي وزناً (و التقابض) بالبراجم لا بالتخلیة (قبل الافتراق).‘‘

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200955
تاریخ09-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں