بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عقیقہ کا گوشت والدین کھاسکتے ہیں؟

سوال

لوگ کہتے هیں که: عقیقہ کا گوشت والدین نہیں کھا سکتے، شرعی طور پر درست بات کیا ہے؟

جواب

      عقیقہ کا گوشت   والدين کے لیے   کھانا جائز ہے، عقیقے کے گوشت کا وہی حکم ہے جو قربانی کے گوشت کا حکم ہے،  والدین خود بھی کھاسکتے ہیں، اور دوسروں کو ہدیہ بھی کرسکتے ہیں اور کھلاسکتے ہیں۔ لوگوں کا یہ خیال کہ: "عقیقہ کا گوشت والدین نہیں کھا سکتے " غلط ہے۔

اعلاء السنن میں ہے:

"یصنع بالعقیقة مایصنع بالأضحیة ... وفي قوله: "یأکل أهل العقیقة ویهدونها" دلیل علی بطلان ما اشتهر علی الألسن: أن أصول المولود لایأکلون منها؛ فإن أهل العقیقة هم الأبوان أولًا ثم سائر أهل البیت".

(إعلاء السنن، باب أفضلية ذبح الشاة في العقيقة، قبیل باب ما یقول الذابح عند الذبح، (17/ 127) ط: إدارة القرآن، كراتشي، الطبعة الثالثة: 1415ه)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200895
تاریخ08-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں