بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزی کی سہولت اور برکت کا وظیفہ

سوال

دوسرے ملک جانے کے لیے کوئی وظیفہ بتا دیں!

جواب

اگر دوسرے ملک جانے سے  ملازمت کے لیے کسی غیر مسلم ملک  جانا مراد ہے تو اس سے متعلق حکم یہ ہے کہ  مسلمانوں کے ملک میں روز گار کے مواقع موجود ہوتے ہوئے غیر مسلم ملک میں صرف معاش کے لیے جانا اسلام میں پسندیدہ نہیں ہے، البتہ اگر دارالاسلام میں مواقع نہ ہوں اور غیر مسلم ملک میں جاکر ایمان، دینی احکام اور اسلامی تہذیب وآداب کی حفاظت کے ساتھ کمانا ممکن ہو تو اس کی اجازت ہوگی۔

اس کے لیے آپ پانچ وقت نماز کا اہتمام کریں، استغفار کی کثرت اور   ہر نماز کے بعد سات مرتبہ اور چلتے پھرتے درج ذیل دعا کا اہتمام کریں:

"أَللّهمَّ اكْفِنِيْ بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَ أَغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَنْ مَنْ سِوَاكَ".

اور جب بھی وضو کیا کریں دورانِ وضو درج ذیل دعا کا اہتمام کیا کریں:

"أللهُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِيْ وَ وَسِّعْ لِيْ فِيْ دَارِيْ وَ بَارِكْ لِيْ فِيْ رِزْقِيْ".

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200833
تاریخ07-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں