کیا اسود عنسی کے قتل کے موقع پر اذان میں اعلان ہوا تھا؟
سوال
جب اسود عنسی کا قتل ہوا تو کیا اذان میں اس کے جہنم واصل ہونے کا اعلان ہواتھا؟ اگر ہوا تھا تو اس عمل کو شرعی اصطلاح میں کیا کہتے ہیں؟
جواب
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ وغیرہ مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ اسود عنسی کے قتل کے موقع پر قیس یا وبر بن یحنس نے قلعے کی فصیل پر کھڑے ہوکر پہلے مخصوص شعار کے ذریعے لوگوں کو متوجہ کیا اور پھر ان الفاظ کے ساتھ اعلان کیا : ’’أشهد أن محمد رسول الله، و أن عبهلة کذاب‘‘ (۶ / ۴۳۵)۔ یہاں اگرچہ اذان کے الفاظ بھی ملتے ہیں، لیکن اذان سے مراد اصطلاحی اذان نہیں، بلکہ لغوی مفہوم میں اذان بمعنی اعلان مراد ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

