بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حیض کی حالت میں لاحول ولا قوۃ اوردرود شریف پڑھنا

سوال

کیا عورت حیض کی حالت میں (لا حول و لا قوۃ إلا باللہ) اور درود شریف پڑھ سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

عورت حیض کی حالت میں ’’ لا حولَ و لا قوةَ إلا بالله‘‘، درود شریف، دیگر اذکار اور دعائیں پڑھ سکتی ہے اور اذان کا جواب بھی دے سکتی ہے۔ لیکن قرآنِ کریم کی تلاوت نہیں کرسکتی، البتہ قرآنِ کریم کی وہ آیات جو دعا پر مشتمل ہیں، یا ان میں دعا کا معنیٰ ہے، انہیں دعا کی نیت سے پڑھ سکتی ہے۔

الفتاوى الهندية (ج:1، ص:38، ط: دار الفكر):

’’(و منها) حرمة قراءة القرآن، لا تقرأ الحائض و النفساء و الجنب شيئا من القرآن، و الآية و ما دونها سواء في التحريم على الأصح إلا أن لا يقصد بما دون الآية القراءة مثل أن يقول: الحمد لله يريد الشكر أو بسم الله عند الأكل أو غيره فإنه لا بأس به ... و يجوز للجنب و الحائض الدعوات و جواب الأذان و نحو ذلك، في السراجية.‘‘

الدر المختار و حاشية ابن عابدين (ج:1، ص:293، ط: دار الفكر):

’’(و لا بأس) لحائض و جنب (بقراءة أدعية و مسها و حملها و ذكر الله تعالى، و تسبيح).‘‘

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200805
تاریخ06-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں