بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نافرمان بیٹے کو گھر سے نکالنے کا حکم

سوال

 جو بچہ والد کی بات نہیں مانتا نا فرمان ہے، کیا اس کو گھر سے نکال سکتے ہیں؟

جواب

نافرمان بچے کو گھر سے نکالنے کے بجائے شفقت و محبت سے اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے، اس کی ہدایت کے لیے اللہ کے حضور رو رو کر دعا کرنی چاہیے، گھر سے نکالنے کی صورت میں ایسے بچے کے مزید بگڑنے کا سخت اندیشہ ہوتا ہے، اگر بچہ بیمار ہوجائے تو چاہے لاعلاج بیماری ہی کیوں نہ ہو، والدین آخری وقت تک اس کا علاج کروانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اسے گھر سے نہیں نکالتے ہیں، چنانچہ اسی طرح اگر بچے کو نافرمانی کی بیماری ہے تو اسے پیار محبت سے سمجھا کر اور علماء و صلحاء کی مجالس میں لے جاکر اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144202200777
تاریخ06-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں