بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مجبوری کی وجہ سے مصلی بند کرنا جائز ہے

سوال

ایک سرکاری ادارے میں ایک جگہ چھوٹی سی مسجد غیر وقف شدہ ہے اور تھوڑے سے فاصلے پر وہاں جامع مسجد بھی ہے جس میں پنج وقتہ نمازیں، درسِ قرآن، درسِ حدیث، بچوں کا مکتب (حفظ و ناظرہ) وغیرہ سب انتظامات ہیں۔ اسی وجہ سے چھوٹی مسجد میں نمازی نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ بسا اوقات ایک، دو یا تین تک مقتدی آجاتے ہیں۔ سب حضرات جامع مسجد کی طرف رخ کرتے ہیں۔ ہمارے پاس ائمہ اور موذنین کی کمی کی بنا پر یا نمازی زیادہ نہ آنے کی وجہ سے اس چھوٹی مسجد کو کیا بند کرسکتے ہیں؟ کیوں کہ ادارے کی طرف سے امام اور مؤذن متعین ہوتے ہیں، ان کے علاوہ کسی کو بھی اذان یا امامت کی اجازت نہیں ہوتی ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر وہ جگہ مسجد کے لیے وقف نہیں کی گئی، بلکہ عارضی طورپر  نمازوں کے لیے مختص  کی گئی ہے (یعنی اسے مصلی بنایا گیا ہے)  تو اسے بند کرنا جائز ہے؛ اس لیے کہ وہ شرعاً مسجد نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200769
تاریخ05-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں