بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیٹوں اور دو بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

اڑھائی مرلہ جائیداد میں دو بھائی دو بہنوں کا حصہ بتائیں، والد اور والدہ وفات پا گئے ہیں،  والد کا کوئی اور رشتہ دار بھی نہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم کا ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگرمرحوم پرکوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے نافذ کرنے کے بعد مرحوم کی تمام جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو 6 حصوں میں تقسیم کرکے اس کے ہر ایک بیٹے کو 2 حصے اور اس کی ہر ایک بیٹی کو  ایک حصہ ملے گا ۔

 

صورت تقسیم یہ ہے:

6          مرحوم والدین            

بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
2 2 1 1

یعنی 100 روپے کے حساب سے  مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 33.33 روپے اور اس کی ہر ایک بیٹی کو 16.66 روپے ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200763
تاریخ05-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں