بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں بیٹھ کر کھائی جانے والی قسم کا کفارہ

سوال

ایک تو قسم ہے چاہے وہ کسی بھی حوالے سے ہو، لیکن آج کل ایک اور مسئلہ بہت ہے، جو بھی ثالثی کرتا ہے وہ یہ  فیصلہ سناتا ہے کہ ہم نے جو فیصلہ کیا وہ آپ مسجد میں بیٹھ کر یا مسجد پر ہاتھ رکھ کر کہو  کہ یہ فیصلہ میں نے مان لیا ہے، اب فیصلہ تو مان لیا، لیکن خدانخواستہ ایسی کوئی بات منہ سے نکلی یا ایسی کوئی چیز جس کا علم بھی نہ ہو  تو مسجد کا کفارہ کیا ہوگا جو ادا کیا جائے؟

جواب

مسجد میں بیٹھ کر اگر قسم اٹھائی جائے تو اس کی مخالفت کی وجہ سے بھی وہی  کفارہ لازم ہوگا جو عام قسم کا ہوتاہے، لیکن اگر قسم کے الفاظ نہیں کہے صرف مسجد میں بیٹھ کر یا مسجد کو ہاتھ لگا کر بات کی ہے اور پھر اس کی خلاف ورزی ہوجائے تو  اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا، البتہ جب شریعت کے اَحکام کے مطابق فیصلہ ہوجائے اور اسے تسلیم بھی کرلیا جائے تو پھر اس کو نبھایا جائے، مخالفت نہ کی جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200732
تاریخ05-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں