بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک مؤذن کا دو مسجدوں میں اذان دینا

سوال

 ایک مؤذن ایک نماز کی اذان دومساجد میں دے سکتا ہے کہ ایک مسجد میں اذان دے، پھر دوسری مسجد میں اذان دے اور نماز پڑھائے؟

جواب

مؤذن کا ایک وقت میں دو مسجدوں میں اذان دینا مکروہ ہے؛ کیوں کہ وہ جس مسجد میں نماز نہیں پڑھے گا اس میں ایسی نماز کی طرف بلانے والا ہوگا جس نماز کو وہ خود نہیں پڑھے گا اور یہ مکروہ ہے۔ 

الدر المختار (1/ 400):

"يكره له أن يؤذن في مسجدين."

( کتاب الصلاۃ، باب الأذان ،ط: سعید)

فتاوى قاضيخان (1/ 37):

"و يكره أن يؤذن في مسجدين ويصلي في أحدهما."

(كتاب الصلاة،باب الأذان،مسائل الأذان،ط:رشيدية)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200685
تاریخ03-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں