بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کفار کے جھگڑے میں کسی ایک کافر کا ساتھ دینا

سوال

اگر دو حربی کافر آپس میں لڑتے ہوں، تو اس صورتِ حال میں مسلمان کسی ایک کافر حربی کے ساتھ دوسرے کفار کا ساتھ دے سکتا ہے یا نہیں؟ کیا یہ مطلقاً حرام ہوگا یا نہیں؟ 

جواب

اصولی بات یہ ہے کہ کسی جھگڑے میں فریقین میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے کا مدار "حق" پر ہونا اور ساتھ چھوڑنے کا مدار "نا حق" پر ہونا ہے؛ لہذا ایک کافر اگر مظلوم ہو تو اس کا ساتھ دینا جائز ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی اور شرعی مانع نہ ہو۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200666
تاریخ03-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں