بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رخصتی سے قبل طلاق کی صورت میں مہر کا حکم

سوال

اگر کسی لڑکی کا نکاح ہوجائے، لیکن  رخصتی  نہ  ہو تو  اس صورت میں  نکاح نامہ پر جو حق مہر ہے تو  کیا وہ طلاق کی صورت میں  ختم ہوجاتا ہے یا کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے ؟

جواب

اگر   نکاح  کے بعد  رخصتی /خلوتِ صحیحہ ( لڑکا اور لڑکی ایسی تنہائی میں ملیں کہ دونوں کے درمیان کوئی تیسرا شخص نہ ہو اور ہم بستری کرنے سے کوئی شرعی ،  طبعی یا حسی  مانع  نہ ہو )  سے  پہلے طلاق ہوجاتی ہے تو اس صورت میں آدھا مہر ادا کرنا لازم  ہے اور  لڑکی پر کوئی عدت بھی نہیں ہے اورخلوتِ صحیحہ  ہونے کی صورت میں پورا مہر ادا کرنا ہوگا  اور  پوری عدت  (تین ماہواریاں ) بھی گزارنی ہوگی ۔

ارشاد باری تعالی ہے :

"وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إَلاَّ أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ" (البقرہ،237/2)

ترجمہ:اور اگر تم ان کو طلاق  دو ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور ٹھہرا چکے تھے تم ان کے لیے مہر تو لازم ہوا آدھا اس کا کہ تم مقرر کرچکے تھے، مگر یہ کہ در گزر کریں عورتیں یا در گزر کرے وہ شخص کہ اس کے اختیار میں ہے گرہ نکاح کی  ۔۔۔الآیۃ

الدر المختار – (3 / 114):

"(وَالْخَلْوَةُ) مُبْتَدَأٌ خَبَرُهُ قَوْلُهُ الْآتِي كَالْوَطْء (بِلَا مَانِعٍ حِسِّيٍّ) كَمَرَضٍ لِأَحَدِهِمَا يَمْنَعُ الْوَطْءَ (وَطَبْعِيٍّ) كَوُجُودِ ثَالِثٍ عَاقِلٍ ذَكَرَهُ ابْنُ الْكَمَالِ، وَجَعَلَهُ فِي الْأَسْرَارِ مِنْ الْحِسِّيِّ، وَعَلَيْهِ فَلَيْسَ لِلطَّبْعِيِّ مِثَالٌ مُسْتَقِلٌّ (وَشَرْعِيٍّ) كَإِحْرَامٍ لِفَرْضٍ أَوْ نَفْلٍ. (وَ) مِنْ الْحِسِّيِّ (رَتَقٌ) بِفَتْحَتَيْنِ: التَّلَاحُمُ (وَقَرْنٌ) بِالسُّكُونِ: عَظْمٌ (وَعَفَلٌ) بِفَتْحَتَيْنِ: غُدَّةٌ (وَصِغَرٌ) وَلَوْ بِزَوْجٍ (لَا يُطَاقُ مَعَهُ الْجِمَاعُ وَ) بِلَا (وُجُودِ ثَالِثٍ مَعَهُمَا) وَلَوْ نَائِمًا أَوْ أَعْمَى (إلَّا أَنْ يَكُونَ) الثَّالِثُ (صَغِيرًا لَا يَعْقِلُ) بِأَنْ لَا يُعَبِّرُ عَمَّا يَكُونُ بَيْنَهُمَا (أَوْ مَجْنُونًا أَوْ مُغْمًى عَلَيْهِ) لَكِنْ فِي. الْبَزَّازِيَّةِ: إنْ فِي اللَّيْلِ صَحَّتْ لَا فِي النَّهَارِ، وَكَذَا الْأَعْمَى فِي الْأَصَحِّ (أَوْ جَارِيَةَ أَحَدِهِمَا) فَلَا تَمْنَعُ بِهِ يُفْتَى مُبْتَغًى (وَصَوْمُ التَّطَوُّعِ وَالْمَنْذُورِ وَالْكَفَّارَاتِ وَالْقَضَاءِ غَيْرُ مَانِعٍ لِصِحَّتِهَا) فِي الْأَصَحِّ، إذْ لَا كَفَّارَةَ بِالْإِفْسَادِ وَمَفَادُهُ أَنَّهُ لَوْ أَكَلَ نَاسِيًا فَأَمْسَكَ فَخَلَا بِهَا وَكَذَا فِي وُقُوعِ طَلَاقٍ بَائِنٍ آخَرَ عَلَى الْمُخْتَارِ (لَا) تَكُونُ كَالْوَطْءِ (فِي حَقِّ) بَقِيَّةِ الْأَحْكَامِ."

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200542
تاریخ01-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں