بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی طلاق کا دعوی کرتی ہے اور شوہر منکر ہے

سوال

ایک شخص اپنی بیوی سے کہے:  اگر اس کمرے کے دروازے سے باہر نکل گئی تو مجھ پر تین شرطوں سے طلاق ہو اور وہ عورت نکل جائے، صرف ایک عورت اس کی گواہ ہو، بعد میں مرد انکار کرے کہ میں نے نہیں کہا ہے اور عورت کہتی ہے کہ اس نے کہا ہے تو کیاحکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں میاں بیوی کے دعووں میں تضاد ہے، بیوی کے بیان کے مطابق شوہر گھر سے باہر نکلنے پر تین طلاقیں معلق کرچکا ہے اور بیوی گھر سے نکل چکی ہے، یعنی شرط پائی گئی ہے اس وجہ سے تین طلاقیں ہوجانی چاہییں اور بیوی کے پاس شرعی گواہ بھی نہیں ہیں، جب کہ شوہر سرے  سے طلاق معلق کرنے سے انکار کررہا ہے، لہذا کوئی طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے، اس اختلافی صورتِ  حال میں کسی ایک فریق کے بیان پر کوئی حتمی فتوی نہیں دیا جاسکتا،  بلکہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ  فریقین کسی معتبر عالمِ دین  یا مفتی کے پاس حاضر ہوکر ان کو اس معاملے میں فیصل (ثالث) مقرر کریں، پھر فیصل فریقین کا موقف اور گواہ نہ ہونے کی وجہ سے مدعی علیہ سے قسم لے کر جو شرعی فیصلہ دے،  اس پر عمل کریں۔فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200536
تاریخ01-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں