بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آنکھ کے آپریشن کے بعد منہ پر مسح کرنا

سوال

میرے والد صاحب نے آنکھ کا آپریشن کرایا ہے اور ڈاکٹرز نے منع کیا ہے  منہ پر پانی ڈالنے سے ،تو وہ منہ کا مسح کرتے ہیں۔کیا یہ وضو صرف نماز پڑھنے تک برقرار رہے گا ؟مطلب وضو کا دورانیہ کتنا ہو گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں  اگر  منہ  کے کسی حصہ کو بھی دھونا ممکن نہیں پھر تو پورے چہرے پر مسح کافی ہے، ورنہ جس قدر حصے پر پٹی یا زخم  یا پانی ڈالنے کی  ممانعت ہو  اس حصے کے علاوہ باقی حصہ  کو دھونا لازم ہے۔ اور جس جگہ مسح کرنا جائز ہے  وہ مسح اس وقت تک باقی رہے گا جب تک  وضو باقی ہے، یعنی جب تک وضو توڑنے والی کوئی بات نہ پائی جائے،  اور  اگر مسح  بھی نقصان دیتا ہو تو مسح بھی ساقط ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 102):

" [فروع] في أعضائه شقاق غسله إن قدر وإلا مسحه وإلا تركه ولو بيده، ولايقدر على الماء تيمم، ولو قطع من المرفق غسل محل القطع".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200514
تاریخ30-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں