بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس مسجد میں امام اور انتظامیہ کے درمیان نا اتفاقی ہو اس میں نماز پڑھنا

سوال

ہمارے علاقے میں ایک مسجد جو کہ تقریباً 30 سالہ پرانی بنی ہوئی ہے، جس کا انتظام پہلے علاقے کے سربراہ کے پاس ہوتا تھا، لیکن گزشتہ 10 سالوں سے اس مسجد پر ایک کمیٹی بنائی گئی ہے، کمیٹی بننے کے بعد پورے علاقے نے اس کو تسلیم کیا، لیکن اس کے بعد ہماری مسجد میں ہر چند روز بعد چھوٹی چھوٹی باتوں پر شر و فساد برپا ہوتاہے، اگر کبھی امام مسجد کوئی کام کر لے تو کمیٹی اس پر فساد برپا کر دیتی ہے، کمیٹی مسجد کے متعلق کوئی فیصلہ کرتی ہے تو امام مسجد اس کو تسلیم کرنے سے انکار کر کے فساد برپا کر دیتا ہے، اب ہمیں اپنی نمازوں کی فکر لاحق ہوگئی ہے، کیا ایسی مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟ 

جواب

بصورتِ مسئولہ مسجد انتظامیہ اور امام مسجد کو مسجد کے انتظامات کے معاملے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے، آپس کے مشورہ سے معاملات طے کرنے چاہییں، بلاوجہ ایک دوسرے کی مخالفت کرنا انتشار اور نفرت پھیلنے کا باعث  ہوتا ہے جو کہ گناہ ہے، باقی ایسی مسجد میں نماز پڑھنا شرعًا جائز ہے، اور نمازیوں کی نماز درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200511
تاریخ30-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں