بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ اخراجات میں خرچ کی گئی رقم کی واپسی کا مطالبہ

سوال

شوہر اور بیوی دونوں ملازمت کرتے ہیں اور گھر کے اخراجات دونوں اپنی اپنی تنخواہوں سے پورے کرتے ہیں، تقریبًا 25 سال بعد شوہر نے بیوی کو طلاق دی، اب بیوی اپنی تنخواہ کا جو حصہ گھر کے اخراجات میں خرچ کر چکی ہے، اس کا مطالبہ کرتی ہے، تو کیا بیوی کا اپنے شوہر سے یہ مطالبہ شرعًا درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر میاں بیوی کے درمیان پہلے سے کوئی معاملہ طے ہوچکا  تھا (مثلًا یہ  کہ خرچ  کی گئی رقم شوہر کے ذمے  قرض ہوگی وغیرہ ) تو  پھر بیوی کے لیے اس خرچ کی گئی رقم کی واپسی کا مطالبہ درست ہے ،  لیکن  اگر دونوں کے درمیان پہلے سے کوئی معاملہ طے نہیں ہوا تھا، بلکہ بیوی اپنی طرف سے گھر کے اخراجات میں خرچ کررہی تھی تو  وہ خرچ اس کی طرف سے تبرع و احسان شمار ہوگا،  جس  کی واپسی کا مطالبہ بیوی کے لیے درست نہیں ۔

تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے : 

"المتبرع لايرجع بما تبرع به على غيره، كما لو قضى دين غيره بغير أمره."

(کتاب المداینات، (2/391) ط: قدیمی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144202200496
تاریخ30-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں