بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بچے کے دو نام رکھنا

سوال

ایک بچے کے دو نام رکھ سکتے ہیں کیا؟

جواب

ایک بچے کے دو نام رکھنے کی کسی صریح نص میں تو ممانعت نہیں ہے، البتہ امت کا تعامل شروع سے یہ رہا ہے کہ ایک انسان کا ایک ہی نام رکھا جائے، ہاں! ایسے دو ناموں کو مرکب کرکے ایک نام بنایا جاسکتاہے جن کی ترکیب سے معنوی خرابی لازم نہ آئے، نیز کسی بچے کے دو نام رکھنے سے قانونی دستاویزات میں بھی مشکلات پیش آئیں گی، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک ہی نام منتخب کرنا پڑے گا، لہٰذا تعاملِ امت اور عرف کی بنا پر بچے کا ایک ہی نام رکھنا چاہیے۔

تاہم اگر نام تو ایک مقرر کیا جائے اور عرفًا و قانونًا وہی نام سمجھا جائے، البتہ قریبی لوگ کسی دوسرے نام سے پکاریں اور اس نام سے وہی شخص معہود ہو اور وہ اس نام سے پکارنے سے خود کو پکارنا سمجھتا ہو، اور اسے برا نہ لگے تو اس کی اجازت ہوگی۔ لیکن نکاح اور دیگر شرعی اور قانونی مسائل میں اس کا وہی نام معتبر ہوگا جو دستاویزات میں اس کا نام تجویز کردیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144202200490
تاریخ30-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں