بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت کے دوران عورت کا بچے کو اسکول چھوڑنے جانا

سوال

دورانِ عدت موجودہ حالات میں عورت اپنے بچے کو سکول چھوڑنے جاسکتی ہے؟

جواب

عدت کے دوران کسی شدید  ضرورت کے بغیر عورت کا گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے، لہذا عورت کے لیے بچے کو اسکول چھوڑنے کے لیے   گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے، بچے کو کسی معتمد  قریبی عزیز کے ساتھ اسکول بھیجا جاسکتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 536):

"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولايخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه". 

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200429
تاریخ28-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں