بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لائف انشورنس پالیسی کی ایک صورت اور اس کا حکم

سوال

میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، کمپنی والوں نے میری لائف انشورنس کی ہے، پیسے میری تنخواہ سے بھی نہیں کٹ رہے، بلکہ کمپنی خود پیمنٹ کرتی ہے، ایسے میں میرا سوال ہے کہ لائف انشورنس کی شرعی حیثیت کیا ہے اور کیا یہ جائز ہے؟

جواب

اگر مذکورہ انشورنس پالیسی لینے میں آپ کی اجازت حاصل نہ ہو،بلکہ کمپنی یا ادارہ اپنی جانب سے ملازم کے لیے پیسے جمع کروائے اور  پھر ملازم کو موت یا ریٹائرمنٹ کی صورت میں اپنی جانب سے جمع کرائے گئے پیسوں سے زائد رقم دے تو ملازم کے لیے اس رقم کا حصول درست ہے۔اس لیے کہ  اس میں ملازم کا عمل دخل نہیں ہے اور یہ ملازم کے لیے عطیہ کی طرح ہے، اس کا لینا ملازم کے لیے جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200399
تاریخ28-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں