بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو حالتِ نفاس میں میسج پر تین طلاق دینا

سوال

میں نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ میسج میں لکھ کر طلاق دی، اس وقت اُس کو بچہ پیدا ہوئے دو ہفتے ہوئے تھے، وہ پاک نہیں ہوئی تھی، اور مجھے میری فیملی نے زبردستی طلاق دلوائی، کیا یہ طلاق ہو گئی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ بچہ کی پیدائش کے بعد دی جانے والی طلاق بیوی پر واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح جو طلاق  گھر والوں کےاصرار کرنے پر دی جائے وہ بھی واقع ہو جاتی ہے، نیز میسج پر طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

لہذا  آپ نے اپنی بیوی کو میسج پر تین مرتبہ لکھ کر طلاق دی ہے وہ تینوں طلاقیں آپ کی بیوی پر واقع ہوگئی ہیں، نکاح ختم ہو گیا ہے، دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہیں اور اب رجوع یا تجدیدِ نکاح کی اجازت نہیں ہے، عدت گزرنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200394
تاریخ28-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں