بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چار بیٹیوں کی صورت میں تقسیم وراثت کا طریقہ

سوال

اگر باپ کا انتقال ہوگیا ہو اس کی صرف چار بیٹیاں ہوں، ماں کا بھی انتقال ہوگیا ہو تو وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟ تین بیٹیاں شادی شده ہیں جبکہ ایک غیر شادی شدہ - ماں اور باپ دونوں کے والدین زندہ نہیں ہیں.

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مرحوم کا کوئی بیٹا، بھائی، بھتیجا، چچا یا چچا زاد بھائی نہ ہو تو ایسی صورت میں مرحوم کی کل جائیداد تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد اور قرضوں اور وصیت کی ادائیگی کے بعد  چار حصوں میں تقسیم کی جائے گی اور ہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ دے دیا جائے گا۔ 

اگر مرحؤم کا کوئی بیٹا، بھائی، بھتیجا، چچا یا چچا زاد بھائی زندہ ہو تو تقسیم کا طریقہ مختلف ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 764)

  (فيبدأ بذوي الفروض) ..... (ثم بالعصبات) أل للجنس فيستوي فيه الواحد والجمع وجمعه للازدواج (النسبية) لأنها أقوى (ثم بالمعتق) ولو أنثى وهو العصبة السببية  (ثم عصبته الذكور) لأنه ليس للنساء من الولاء إلا ما أعتقن (ثم الرد) على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم    فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200390
تاریخ27-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں