بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بہن بھائیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

میں بیوہ ہوں ، میرے والدین کا بھی انتقال ہو چکاہے، میرے دو بھائی اور چار بہنیں ہیں ،جن میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے ، لیکن اس بہن کے بچے ہیں۔میری وراثت کی تقسیم کا پتہ کرنا ہے، خصوصاً جس بہن کا انتقال ہو چکا ہے، کیا اس کے بچوں کو بہن کا حصہ ملے گا؟

جواب

واضح رہے کہ وراثت کی تقسیم موت کے بعد ہوتی ہے اور اس وقت جو ورثاء زندہ ہوں ان میں  وراثت تقسیم ہوتی ہے۔

لہذا صورتِ مسؤلہ میں اگر یہی ورثاء آپ کی وفات کے وقت زندہ ہوں یعنی بچے والدین، شوہر نہ ہوں تو آپ کی وراثت بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگی ، جو بہن وفات پاچکی ہے ان کے بچوں کو میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين، كتاب الفرائض 6/ 758 ط: سعيد) فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200385
تاریخ27-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں