بیوہ، تین بیٹیاں، چار بھائی اور ایک بہن میں تقسیم میراث
سوال
بیوہ، تین بیٹیاں، چار بھائی اور ایک بہن میں میراث کیسے تقسیم ہوگی؟
جواب
صورت مسئولہ میں کل ترکہ سے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کو باقی ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے شرعاً کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی ترکہ کے ایک تہائی سے پورا کرنے کے بعد باقی پورے ترکہ میں سے 12.5% بیوہ کو، 22.22% ہر بیٹی کو، 4.63% ہر بھائی کو اور 2.31% بہن کو ملے گا۔
نوٹ : یہ تقسیم اس وقت ہے جب کہ مرحوم کے انتقال کے وقت اس کے والدین یا کوئی بیٹا زندہ نہ ہوں۔
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

