بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حائرہ، ایلاف اور ویام نام رکھنے کا حکم اور ان کے معانی

سوال

لڑکی کا نام حائرہ  /  ایلاف / ویام رکھنا درست ہے؟ صحیح تلفظ اور معنی میں رہنمائ فرمائیں!

جواب

1-   ’’حَائِرَہ ‘‘ کے معنی ہیں: حیران وسرگرداں، ایسی عورت جو  کبھی جوان نہ ہو، یا جس میں کوئی خیر نہ ہو۔  

یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔

"الحائرة من النساء و الشاء: التي لا تشب أبدًا و يقال: ما هو إلا حائرة من الحوائر أي لا خير فيه." (معجم متن اللغة) 

2- ’’إِيْلَاف ‘‘  مصدر ہے، عَلَم (نام)  نہیں ہے، اس کا معنی ہے: مانوس ہونا ۔ 

یہ نام رکھا جاسکتاہے۔

3-  وِیَام یا وِئَام کا معنی ہے: رہن سہن اور محبت میں ہم آہنگی اور موافقت، دوستی۔ 

یہ نام بھی رکھا جاسکتاہے۔

"وئام.  مص. واءم. ۱- موافقة في العشرة والود وغيرهما. ۲-  صداقة." (معجم الرائد)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200366
تاریخ27-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں