بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کا اپنی ایک سالہ بیٹی کی شرمگاہ دیکھنا

سوال

باپ اپنی ایک سال کی بچی کا ستر اور شرمگاہ دیکھ سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بالکل چھوٹے بچے جن کی عمر تین چار سال سے بھی کم ہو ان کی شرمگاہ کا حکم ستر والا نہیں ہے، لہذا اگر کسی ضرورت مثلاً استنجا وغیرہ کروانے یا کسی اور ضرورت سے اپنی ایک سال کی بچی کی  شرمگاہ پر باپ کی نظر پڑتی ہے تو یہ ناجائز نہیں ہے اور اس میں گناہ نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 407):

 وفي السراج: لا عورة للصغير جدا، ثم ما دام لم يشته فقبل ودبر ثم تغلظ إلى عشر سنين، ثم كبالغ.

(قوله" لا عورة للصغير جدًا) وكذا الصغيرة كما في السراج، فيباح النظر والمس كما في المعراج. قال ح: وفسره شيخنا بابن أربع فما دونها، ولم أدر لمن عزاه. اهـ. 

أقول: قد يؤخذ مما في جنائز الشرنبلالية ونصه: وإذا لم يبلغ الصغير والصغيرة حد الشهوة يغسلهما الرجال والنساء، وقدره في الأصل بأن يكون قبل أن يتكلم. اه

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144202200345
تاریخ26-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں