بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جھوٹ بولنا حرام ہے

سوال

ایک جو تے کی دکان ہے ان کے پاس گاہک آیا جوتا لینے، وہ دکان والا جانتا ہے اس کے معاملات، اگر ادھار دیا تو وہ آدمی ایک مہینہ لگا دے گا، دکان والے نے کہا: آج میں نے کوئی جوتا نہیں بیچا؛ تاکہ وہ آدمی پیسے جلدی سے ادا کردے، کیا یہ کہنا جھوٹ میں شامل ہوگا یا نہیں؟

جواب

جوتا ادھار طلب کرنے والے گاہک سے پہلے اگر دکان دار نے کوئی جوتا فروخت نہ کیا ہو تو  دکان دار کا یہ کہنا کہ "آج میں نے کوئی جوتا فروخت نہیں کیا" جھوٹ نہیں ہوگا، اور اگر اس سے پہلے  جوتا فروخت کرچکا ہو تو پھر یہ بات جھوٹ ہوگی، اور جھوٹ بولنا گناہ ہے، اس پر توبہ و استغفار لازم ہے، اور آئندہ جھوٹ بولنے سے اجتناب کیا جائے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 427):

"الكذب مباح لإحياء حقّه ودفع الظلم عن نفسه والمراد التعريض؛ لأن عين الكذب حرام، قال: وهو الحق قال تعالى: {قتل الخراصون} [الذاريات: 10]".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200282
تاریخ25-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں