بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی دیوار پر مزار کی تصویر ہو تو ایسی مسجد میں نماز کا حکم

سوال

مسجد میں کسی ولی اللہ نیک بزرگ کے مزار یا قبر یا قبر مبارک پر بنے هوۓ قبہ یا گنبد مبارک کی تصویر آویزاں هو یا پینٹ کی  گئی ہو تو اس مسجد میں نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟ عموماً ایسی تصاویر سامنے فرنٹ پر ہی لگی ہوتی ہیں جن کی طرف قبلہ  رخ هو کر نماز ادا کی جاتی ہے!

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں نماز ادا ہوجاتی ہے،  تاہم  مساجد میں  قبروں کی یا اس طرح کی تصاویر لگانا درست نہیں ہے، جس سے  لوگوں کے عقائد بگڑنے کا اندیشہ   ہو یا نماز میں توجہ اللہ تعالیٰ  سے ہٹ کر ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوتی ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200267
تاریخ25-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں