بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جانور کے نر بچے کی اس کی ماں کے ساتھ جفتی کروانا

سوال

جانور کے نر بچے سے اس کے ماں کے ساتھ ازخود جفتی کروانا جائزہے؟

جواب

 جانور احکامِ شریعت کے مکلف نہیں ہیں، لہٰذا جانور کے نر بچے کی اس کی ماں  کے ساتھ جفتی کرانا جائز ہے، بشرطیکہ اس میں کسی قسم کا ضرر نہ ہو۔ 

وفي الموسوعة الفقهية الكويتية:

"الإنزاء الّذي لايضرّ - كالإنزاء على مثله أو نحوه أو مقاربه - جائز، كخيلٍ بمثلها أو بحميرٍ، أمّا إذا كان يضرّ - كإنزاء الحمير على الخيل - فإنّ من الفقهاء من كرهه."

(7/ 410ط:وزارة اللأوقاف الشؤن الإسلامية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200233
تاریخ24-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں