بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تجدیدِ نکاح سے کیا مراد ہے؟

سوال

تجدیدِ  نکاح سے کیا مراد ہے؟ اور اس کا طریقہ کیا ہے؟

جواب

تجدید نکاح کا مطلب اپنی منکوحہ سے دوبارہ نکاح کرنا،اس کا طریقہ وہی ہے جو عام نکاح کا ہوتاہے کہ مرد اور عورت  دو  مسلمان مرد (یا ایک مرد اور دوعورت) گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول  کیا جائے۔

عام طور پر تجدید نکاح کی ضرورت تب پڑتی ہے جب میاں بیوی میں سے کوئی نعوذ باللہ کلماتِ  کفر کہہ دے یا شرکیہ اعمال کر لے جس کی وجہ سے اس کے ایمان کی بھی تجدید کی جاتی ہے اور اس کے بعد نکاح کی تجدید بھی ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر شوہرایک یا دو طلاق دے جس سے نکاح ٹوٹ جائے اورپھر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو بھی تجدید نکاح کیاجاتا ہے،  مگر اس صورت میں مہر مقرر کرنا بھی ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200156
تاریخ22-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں